عمران خان نے اپنے کھلاڑیوں کو 'ہوٹل کے کمروں میں ایک رات کے لیے لڑکیاں لانے' کا کہا
عمران خان نے اپنے کھلاڑیوں کو 'ہوٹل کے کمروں میں ایک رات کے لیے لڑکیاں لانے' کا کہا"
"تاریخِ پاکستان کرکٹ میں کپتانوں کی ریٹنگز"
تحریر میں عمران خان سے متعلق تفصیل
عمران خان (اسٹارز ★ ★ ★ ★)
آل راؤنڈر۔ سیدھے ہاتھ کے بیٹسمین؛ سیدھے ہاتھ کے فاسٹ باؤلر
کپتانی کا دور:92-1988; 87-1986 ; 84-1982
تعلق: لاہور.
طرز کپتانی: جارحانہ; حاکمانہ; تخلیقی; پر کشش.
عمدہ حکمت عملی: اُنہیں سریز سے قبل اپنے کھلاڑیوں کے بارے میں بڑھا چڑھا کے بیان دے کر حریف ٹیم کو کنفیوژ کرنا بہت پسند تھا۔
مثلاً:
1982 میں پاکستان کے دورہ انگلینڈ سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے عمدہ اسپنر عبدالقادر کی تعریف میں کہا کہ وہ 'بال کے جادوگر’ ہیں مگر اُن کا مزاج ایسا نہیں تھا، اِس لیے عمران خان نے عبدالقادر کو نمایاں داڑھی رکھنے کو کہا تاکہ وہ کسی جادوگر کی طرح نظر آسکیں۔
1989 میں دورہ آسٹریلیا کے دوران عمران خان نے آسٹریلوی پریس کو بتایا کہ منظور الٰہی دنیا میں سب سے ’جارحانہ بیٹسمین’ ہیں۔ حالانکہ منظور الٰہی ایک بہترین اوسط آل راؤنڈر تھے۔ مگر جب وہ بیٹنگ کے لیے آئے تو آسٹریلوی کپتان نے اپنی ٹیم کو یہ مانتے ہوئے پورے میدان میں پھیلا دیا کہ وہ زور دار ہٹ داغیں گے۔ بجائے اِس کے انہوں نے دور کھڑے کھلاڑیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آسانی سے ایک ایک رنس حاصل کرتے رہے۔ بہرحال آخرکار ایک چھکا بھی داغنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
1988 میں شارجہ کے ایک روزہ کرکٹ دورے کے دوران ہندوستان کے خلاف میچ سے پہلے عمران خان نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کرکٹ کے میدان میں حل ہونا چاہیے۔ پاکستان وہ میچ جیت گیا تھا۔
تنازعات: عمران خان نے منصور اختر کو اُن کی کئی ناکامیوں کے باوجود بھی ٹیم میں شامل رکھا۔
انہوں نے اقبال قاسم کو ٹیم سے باہر ہی رکھا مگر 1987 میں دورہ ہندوستان کے موقع پر نائب کپتان جاوید میانداد کے اسرار پر صرف اُسی سیریز میں شامل کیا۔
قاسم عمر اور یونس احمد نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے اپنے کھلاڑیوں کو اپنے 'ہوٹل کے کمروں میں ایک رات کے لیے لڑکیوں کو لانے' پر اکسایا۔
عمران خان نے پاکستان میں اکتوبر میں منعقد ہونے والی دو سیریز کھیلنے سے انکار کردیا تھا کیونکہ ’وہ پاکستان میں سال کا سب سے گرم ترین مہینہ تھا۔’
میدان پر موجود اناڑی کھلاڑیوں کو اکثر ڈانٹا کرتے۔
کپتانی کا عروج: 83-1982 میں پاکستان میں ہونے والی سیریز میں آسٹریلیا کو 0-3 سے اور ہندوستان کو 0-3 سے شکست دی۔
1987 میں انگلینڈ کو انگلینڈ میں اور ہندوستان کو ہندوستان میں ہرایا۔
1989 میں دورہ ہندوستان میں بین الاقوامی ایک روزہ میچ میں فتح حاصل کی۔
1992 کا ورلڈ کپ جیتا۔
عبدالقادر کو دوبارہ ٹیم میں شامل کیا۔
وسیم اکرم کی تربیت کی۔
وقار یونس، سلیم جعفر اور عاقب جاوید کو متعارف کروایا۔
کپتانی کا ریکارڈ: 48 ٹیسٹ میچوں میں 14 جیتے، 8 ہارے اور 26 میچ ڈرا ہوئے۔ 139 ایک روزہ میچوں میں 75 جیتے اور 59 میں شکست ہوئی۔
یہ تحریر ڈان پر شائع ہوئی
Comments
Post a Comment