احترامِ انسانیت
احترام انسانیت وہ صفت اور خوبی ہے جس سے انسانیت کا دوام وابستہ ہے۔ شرف انسانی کا مطلب ہی احترام انسانیت ہے۔
انسانیت سے مراد ہر شخص بلا کسی تفریق مذہب و ملت، قوم و ملک ہے۔ دنیا کا ہر فرد قابل احترام ہے اس لیے کہ وہ انسان
ہے۔ مذاہب عالم میں بھی احترام انسانیت کا درس دیا گیا ہے۔ اگر ہم یوں کہیں کہ احترام انسانیت دنیا میں بسنے والوں کا
مشترکہ ورثہ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ ایک دوسرے کا احترام مہذّب اقوام کی ترقی کا راز اور امتیاز ہے۔ کتنی ہی اقوام اور
ثقافتیں صرف اِس لیے قابل رشک ہوئیں کہ وہ ایک دوسرے کا احترام کیا کرتی تھیں، اور اپنی نئی نسل کو اخلاقیات کا درس
دیتے وقت احترام کی اہمیت پر زور دیتی تھیں۔ انسانوں کے درست اجتماعی معاملات کا دار و مدار ایک دوسرے کے احترام
سے وابستہ ہے۔ اسلام نے احترام انسانیت کا نہ صرف درس دیا، بل کہ اس پر انتہائی عمل پیرا ہونے کا حکم بھی دیا۔ اسلام
نے انسانوں کی دل آزاری سے اجتناب برتنے اور حقوق انسانی کے تحفّظ پر انتہائی زور دیا ہے۔ احترام کی صفت اسلامی
اخلاقیات میں سے ایسی خوبی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ ربط اور تعلق کی بنیاد ہے۔ شریعتِ اسلامی کی رُو سے ہر
انسان مکرم اور معزّز ہے۔ رب کائنات کا ارشاد مکرم ہے، مفہوم: ’’ اور حقیقت یہ ہے، کہ ہم نے آدم کی اولاد کو عزّت بخشی
ہے۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہایت اہتمام کے ساتھ انسانوں کو ایک دوسرے کے احترام اور ان کے حقوق کی ادائی کی
تلقین کی ہے۔ محسن انسانیت نبی کریم ﷺ کی زندگی کا سب سے بڑا مشن اور نصب العین دنیا میں انسانی قدروں کا تحفظ کرنا
تھا۔ اِس مشن کی ایک جھلک حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی اْس تقریر میں بھی نظر آتی ہے جو آپؓ نے نجاشی کے دربار میں
کی تھی۔ نجاشی نے حضرت جعفرؓ سے پوچھا: تم لوگوں نے اپنا دین آخر کیوں تبدیل کیا ۔۔۔۔ ؟ اِس سوال کے جواب میں
حضرت جعفرؓ نے نہایت موثر گفت گو کرتے ہوئے فرمایا : ’’ ہم لوگ شرک پر قائم تھے۔ ہم بتوں کی پوجا کرتے تھے اور
حرام و مردار کھایا کرتے تھے، پڑوسیوں کے ساتھ بُرا سلوک کرتے تھے۔ قتل و غارت کو حلال سمجھتے تھے، ہمارے اندر
حلال و حرام کا تصور مٹ چکا تھا۔ اِن حالات میں اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ایک نبی مبعوث فرمایا، جس کی وفاداری، سچائی
اور امانت و دیانت سے ہم بہ خوبی واقف تھے۔ چناں چہ انہوں نے ہمیں اللہ ربّ العالمین کی جانب رجوع کی دعوت دی تاکہ ہم
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائیں اور اسی کی عبادت کیا کریں اور اس نبیؐ نے ہمیں سچ بولنے، امانت ادا کرنے، رشتے
داروں سے حسن سلوک ، پڑوسیوں پر احسان کرنے، حرام کاموں اور قتل و قتال سے بچنے کا حکم دیا۔ اور ہمیں بے حیائی
کے کام کرنے، جھوٹ بولنے، یتیم کا مال کھانے اور پاک باز عورتوں پر تہمت لگانے سے منع فرمایا۔‘‘ احترام کی ابتداء
شعائراللہ کی تعظیم اور رسول اللہ ﷺ کی توقیر سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، مفہوم : ’’ تاکہ اے لوگو! تم اللہ اور اس
کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کی مدد کرو، اور اس کی تعظیم کرو۔‘‘ دین اسلام نے ہم پر قانون اور نظام کا احترام بھی
واجب کیا ہے، اِس لیے کہ قوانین انسانوں کے تحفظ اور فائدے کو مدّنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں
ملکی اور عالمی قوانین کا احترام ہر ذی شعور انسان پر لازم ہے، تاکہ نہ خود نقصان اٹھانا پڑے اور نہ دوسروں کو نقصان
پہنچے۔ قانون کی عمل داری سے ہی انصاف میسر آسکتا اور ہر ظلم کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے
: ’’ نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ۔‘‘ سماج میں احترام کا ایک مظہر بڑوں اور بزرگوں کی عزّت اور
احترام کرنا بھی ہے۔ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ وہ شخص ہماری امت میں سے نہیں ہے جو بڑوں کی عزّت نہیں کرتا،
چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے علماء کی قدر نہیں کرتا۔‘‘ (مسند احمد ) بڑوں کی تعظیم اور احترام دراصل اللہ تعالیٰ
کی تعظیم ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’ بزرگ مسلمان کی تعظیم دراصل اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے۔‘‘ ( ابوداؤد)
بڑوں کی تعظیم بہت بڑی نیکی ہونے کے ساتھ رحمتوں اور برکتوں کا سبب بھی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’ بڑوں کے ساتھ
برکت ہوتی ہے۔‘‘ (صحیح ابن حبان) بزرگوں کا احترام یہ ہے، کہ ان کی تعظیم کی جائے، ان کے مقام اور مرتبے کا لحاظ
رکھا جائے، جب وہ بات کررہے ہوں، تو ان کی بات کو خاموشی اور توجہ کے ساتھ غور سے سنا جائے اور ان کی بات کو
درمیان سے نہ کاٹا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کے سامنے جب دو آدمی بات شروع کرتے، تو آپؐ ان میں بڑے کو فرماتے: ’’ پہلے
آپ اپنی بات پوری کریں۔‘‘ (متفق علیہ) فتح مکہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے والد کو آپؐ کے پاس اسلام لانے
کے لیے لائے، تو آپؐ نے فرمایا: ’’ انہیں گھر میں رہنے دیتے، میں خود اِن کے پاس حاضر ہوتا۔‘ (مستدرک حاکم ) اِس سے
جہاں ایک طرف رسول اکرم ﷺ کے اخلاق اور تواضع ثابت ہوتی ہے، وہاں دوسری طرف بڑوں کی عزت اور احترام بھی
ثابت ہوتا ہے۔ ہمیں معاشرے میں بلا تفریق جنس عورتوں کا بھی احترام کرنا چاہیے۔ اسلام نے عورتوں کو بہت عظیم مرتبہ
عطا کیا ہے، اور ان کے ساتھ رعایت اور احسان کا معاملہ برتنے کا حکم دیا ہے۔ اگر عورت ماں ہو، تو ان کی اطاعت اور
خدمت واجب ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ماں کی رضامندی کو اپنی رضامندی قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے تین مرتبہ پوچھا گیا
کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ تو آپؐ نے ہر مرتبہ جواب دیا : ’’ تیری ماں۔‘‘ (متفق علیہ) اور اگر
عورت بیٹی ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی پرورش کو جنت کی ضمانت قرار دیا ہے۔ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے: ’’ جس نے دو
بیٹیوں کی پرورش کی، تو میں اور وہ آدمی جنت میں اکٹھے داخل ہوں گے۔‘‘ (صحیح مسلم ) اور اگر عورت بہن ہو، تو اس
کے احترام کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا عمل یہ ہے، کہ جب غزوۂ حنین سے آپؐ فارغ ہوئے، تو ایک لڑکی آئی، اور کہنے
لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ کی رضاعی بہن شیما ہوں۔ آپؐ نے تصدیق کے بعد اپنی بہن کے لیے احتراما اپنی چادر
مبارک بچھا دی۔ اور پھر اس سے فرمانے لگے: جو مانگو گی، وہ تمہیں ملے گا، اور جس قیدی کے بارے میں سفارش
کروگی، اس کے بارے میں تیری سفارش قبول ہوگی۔ ‘‘ (دلائل النبوی للبیہقی) اسلام نے صرف مسلمانوں کے باہمی احترام کا
حکم ہی نہیں دیا، بل کہ تمام انسانوں کے احترام کے بارے میں تاکید فرمائی ہے، چاہے وہ جس ملک اور مذہب سے بھی تعلق
رکھتے ہوں۔ ایک مرتبہ آپؐ ایک جنازے کے احترام میں کھڑے ہوگئے، تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! یہ تو یہودی
ہے۔ آپؐ نے فرمایا : تو کیا انسان نہیں ہے! ‘‘ (متفق علیہ) آپؐ نے غزوہ حنین میں ایک مقتول عورت کو دیکھا، تو فرمانے
لگے : ’’ اِس کے ساتھ لڑنا نہیں چاہیے تھا۔‘‘ اسلام کی نظر میں ہر انسان محترم ہے، چاہے وہ جنگ کی حالت میں کیوں نہ
ہو، اور چاہے اس کا دین جو بھی ہو! ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اولاد اور ماتحتوں کو ابتداء سے ہی اِس اہم اسلامی ثقافت کی
تربیت دیں۔ گھر میں شوہر اور بیوی بچوں کے سامنے ایک دوسرے کا احترام کیا کریں، تو گھر سلامتی اور احترام کی
روشنی اور برکات سے منوّر ہوگا۔ اسکول اور مدرسے میں طلبہ کو احترام کی تعلیم دینی چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ ’’
باادب بانصیب اور بے ادب بے نصیب‘‘ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تکریم انسانیت، نرم خُو اور ہر انسان کا احترام کرنے کی توفیق مرحمت عطا فرمائے۔ آمین
Comments
Post a Comment